مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فِي كُلِّ سَاعَةِ شِدَّةٍ يُقَالُ هَذَا)
مشکل کی ہرگھڑی میں یہ کہا جائے
حدیث نمبر: 5527
الْفَصْلُ الثَّانِي 5527 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدِ الْتَقَمَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:"قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں جبکہ صور (پھونکنے) والے نے اس (صور) کو اپنے منہ کے ساتھ لگا رکھا ہے، اپنے کان اور اپنی پیشانی کو جھکا رکھا ہے اور وہ انتظار کر رہا ہے کہ اسے پھونک مارنے کا کب حکم ملتا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ» ”ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔“”سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5527]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2431 وقال: حسن، 3243)
٭ عطية العوفي ضعيف.»
٭ عطية العوفي ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف