مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (شَفَاعَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتُقْبَلُ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش قبول کی جائے گی
حدیث نمبر: 5575
5575 - وَعَنْهُ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً، ثُمَّ قَالَ:"أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ يَقُومَ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ ; فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ، فَيَقُولُ النَّاسُ: أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ؟ فَيَأْتُونَ آدَمَ". وَذَكَرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ وَقَالَ: فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ: أُمَّتِي يَا رَبِّ، أُمَّتِي يَا رَبِّ، أُمَّتِي يَا رَبِّ، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَبْوَابِ". ثُمَّ قَالَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو اس میں سے دستی آپ کی خدمت میں پیش کی گئی، جبکہ دستی آپ کو پسند تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دانتوں سے ایک بار اسے نوچا، پھر فرمایا: ”روزِ قیامت میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا، اس دن تمام لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے، سورج قریب ہو جائے گا اور لوگ غم و تکلیف کی انتہا کو پہنچ جائیں گے، تمام لوگ کہیں گے: کیا تمہیں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا ہے جو تمہارے رب کے ہاں تمہاری سفارش کرے؟ چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور پھر (راوی نے) آگے حدیثِ شفاعت بیان کی، اور (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا: میں جاؤں گا اور عرش کے نیچے پہنچوں گا تو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا، پھر اللہ اپنی حمد و ثنا کے ایسے کلمات مجھے سکھائے گا جو اس نے مجھ سے پہلے کسی کو نہیں سکھائے ہوں گے، پھر وہ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیں، سوال کریں، آپ کا سوال پورا کیا جائے گا، اور سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا: «يَا رَبِّ أُمَّتِي، يَا رَبِّ أُمَّتِي، يَا رَبِّ أُمَّتِي» ”اے میرے رب! میری امت، اے میرے رب! میری امت، اے میرے رب! میری امت۔“ کہا جائے گا: اے محمد! آپ اپنی امت کے ان افراد کو جن پر کوئی حساب نہیں، جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کیجیے، حالانکہ انہیں اس کے علاوہ دیگر دروازوں سے بھی لوگوں کے ساتھ گزرنے کا حق حاصل ہے۔“ پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے دروازے کی دہلیز کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5575]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4712) و مسلم (327 / 194)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه