🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (رُؤْيَةُ اللَّهِ تَعَالَى)
دیدار الٰہی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5578
5578 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ نَاسًا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"نَعَمْ، هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ مَعَهَا سَحَابٌ؟ وَهَلْ تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟". قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"مَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ  إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ: لِيَتَّبِعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ ; فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ مِنَ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ: فَمَاذَا تَنْظُرُونَ؟ يَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ. قَالُوا: يَا رَبَّنَا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا روزِ قیامت ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کیا دوپہر کے وقت، جب مطلع ابر آلود نہ ہو تو سورج دیکھنے میں تم کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟ اور کیا چودھویں رات جب مطلع ابر آلود نہ ہو تو تم چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم روزِ قیامت اللہ کو دیکھنے میں تکلیف محسوس نہیں کرو گے، مگر جس قدر تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو۔ جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: ہر امت اپنے معبود کے پیچھے چلی جائے، اللہ کے علاوہ اصنام اور بتوں کی پوجا کرنے والے سارے کے سارے آگ میں گر جائیں گے، یہاں تک کہ جب صرف اللہ کی عبادت کرنے والے نیک اور فاجر قسم کے لوگ رہ جائیں گے تو رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور پوچھے گا: تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ ہر امت اپنے معبود کے پیچھے جا چکی ہے، وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم نے دنیا میں ان سے علیحدگی اختیار کیے رکھی جبکہ ہم ان کے ضرورت مند تھے اور ہم ان کے ساتھ نہ رہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5578]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (806) و مسلم (229/ 182)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں