🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (المَقَامُ المَحْمُودُ)
مقام محمود
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5596
5596 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قِيلَ لَهُ: مَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟ قَالَ:"ذَلِكَ يَوْمَ يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى كُرْسِيِّهِ فَيَئِطُّ كَمَا يَئِطُّ الرَّحْلُ الْجَدِيدُ بِرَاكِبِهِ مِنْ تَضَايُقِهِ بِهِ، هُوَ كَسَعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَيُجَاءُ بِكُمْ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، فَيَكُونُ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ  ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: اكْسُوا خَلِيلِي ; فَيُؤْتَى بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ مِنْ رِيَاطِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أُكْسَى عَلَى أَثَرِهِ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ مَقَامًا يَغْبِطُنِي الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ ﴿مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79] کیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر نزول فرمائے گا تو وہ (کرسی) اپنی تنگی کی وجہ سے اس طرح چر چر کی آواز نکالے گی جس طرح نئی زین چر چر کی آواز نکالتی ہے، حالانکہ وہ (کرسی) زمین و آسمان کے درمیان مسافت کی طرح وسیع ہے۔ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور ختنوں کے بغیر لائے جاؤ گے، سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے خلیل کو لباس پہناؤ، آپ کو جنت کی چادروں میں سے دو سفید چادریں دی جائیں گی، پھر ان کے بعد مجھے لباس پہنایا جائے گا، پھر میں اللہ کے دائیں طرف ایک جگہ کھڑا ہو جاؤں گا، تمام اگلے پچھلے مجھ پر رشک کریں گے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5596]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (2/ 325 ح 2803، نسخة محققة: 2842)
٭ فيه عثمان بن عمير: ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں