مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَهْلُ الإِيمَانِ سَيَرَوْنَ اللَّهَ تَعَالَى بِأَعْيُنِهِمْ)
اہل ایمان اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے
حدیث نمبر: 5663
5663 - وَسُئِلَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ فَقِيلَ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِلَى ثَوَابِهِ. فَقَالَ مَالِكٌ: كَذَبُوا، فَأَيْنَ هُمْ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ قَالَ مَالِكٌ: النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَعْيُنِهِمْ ، وَقَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكَفَّارَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ: كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ. رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
اور امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ [سورة القيامة: 23] ”وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔“ کے بارے میں پوچھا گیا، نیز انہیں بتایا گیا کہ کچھ لوگ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ رب تعالیٰ کے ثواب کو دیکھنے والے ہوں گے، امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: انہوں نے جھوٹ کہا ہے، (اگر ایسا ہے) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ﴾ [سورة المطففين: 15] ”ہرگز نہیں، بے شک وہ اس روز اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے۔“ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ روزِ قیامت اپنی آنکھوں سے اللہ کا دیدار کریں گے اور فرمایا: اگر مومن قیامت کے دن اپنے رب کا دیدار نہیں کریں گے تو پھر اللہ کافروں کو دیدار سے محرومی کی عار نہ دلاتا، فرمایا: ﴿كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ﴾ [سورة المطففين: 15] ”ہرگز نہیں، بے شک وہ (کافر لوگ) اس روز اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے۔“ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5663]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (15/ 329. 330 قبل ح 4393 بدون سند)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف