مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَاذَا سَيَفْعَلُ المَاءُ المَغْلِيُّ؟)
کھولتا ہوا پانی کیا کیا کرے گا
حدیث نمبر: 5680
5680 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ: يُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ قَالَ:"يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ، فَإِذَا أُدْنِي مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ، وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ، وَيَقُولُ: وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ * يَتَجَرَّعُهُ﴾ (اسے پیپ پلائی جائے گی تو وہ اسے گھونٹ گھونٹ پیئے گا) [سورة إبراهيم: 16-17] کے متعلق فرمایا: ”وہ اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا، جب اسے اس کے قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ جل جائے گا، اس کے سر کی جلد گر پڑے گی، جب وہ اسے پیئے گا تو اس کی انتڑیاں کٹ جائیں گی حتی کہ وہ اس کی دبر (پیٹھ) کے راستے باہر نکل آئے گا۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ (انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا) [سورة محمد: 15] اور وہ فرماتا ہے: ﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ (اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تل چھٹ کی طرح ہو گا، چہروں کو بھون ڈالے گا، برا پینا ہے) [سورة الكهف: 29] ۔“ (اسنادہ حسن، رواہ الترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5680]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2583)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن