🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (مَاذَا كَانَ قَبْلَ خَلْقِ الكَوْنِ وَالمَخْلُوقَاتِ؟)
کائنات اور مخلوقات کی پیدائش سے پہلے کیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5698
[ 9 ] بَابُ بَدْءِ الْخَلْقِ وَذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5698 - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ، فَقَالَ:"اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ!"قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ:"اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ!". قَالُوا: قَبِلْنَا، جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ، وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ؟ قَالَ: كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ  ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ قَالَ: يَا عِمْرَانُ! أَدْرِكْ نَاقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ بنو تمیم (قبیلے) کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو تمیم! تم خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے عرض کیا، آپ نے ہمیں خوشخبری تو سنا دی، آپ ہمیں عطا بھی فرمائیں، اتنے میں اہل یمن سے کچھ لوگ آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یمن والو! تم خوشخبری قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے عرض کیا، ہم نے قبول کیا، اور ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں تا کہ ہم دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں اور سب سے پہلے کیا چیز تھی؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تھا، اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اور اس کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائی، اور ذکر (لوح محفوظ) میں ہر چیز لکھی۔ راوی بیان کرتے ہیں، پھر ایک آدمی میرے پاس آیا تو اس نے کہا: عمران! اپنی اونٹنی کی خبر لو، وہ جا چکی ہے، میں اسے تلاش کرنے چلا گیا، اللہ کی قسم! میں نے خواہش کی کہ وہ چلی جاتی اور میں (وہاں سے) نہ اٹھتا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5698]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (7418)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں