مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ذِكْرُ الأَنْبِيَاءِ)
انبیاء کا ذکر
حدیث نمبر: 5705
5705 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں، جب انہوں نے کہا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ﴾ [سورة البقرة: 260] ”رب جی! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔“ اللہ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے وہ زبردست سہارے (یعنی اللہ تعالیٰ) کی پناہ لیتے تھے، اور اگر میں اتنی مدت تک، جتنی مدت تک یوسف علیہ السلام قید خانے میں رہے، قید خانے میں رہتا تو میں بلانے والے کی بات ضرور مان لیتا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5705]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3372) و مسلم (152/ 151)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه