مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قَضَى سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ)
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ کیا
حدیث نمبر: 5719
5719 - وَعَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ. وَقَالَتِ الْأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى ، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلُ، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے بیٹے بھی تھے، بھیڑیا آیا اور وہ ان میں سے ایک کے بیٹے کو لے گیا، ایک نے اپنی ساتھ والی سے کہا: وہ تو تیرے بیٹے کو لے کر گیا ہے، اور دوسری نے کہا: (نہیں) وہ تیرے بیٹے کو لے کر گیا ہے، چنانچہ وہ دونوں داؤد علیہ السلام کے پاس مقدمہ لے گئیں تو انہوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ کر دیا، پھر وہ دونوں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے پاس سے گزریں اور انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے چھری دو میں اسے ٹکڑے کر کے تم دونوں کے درمیان تقسیم کر دیتا ہوں، چھوٹی نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، ایسے نہ کریں وہ اسی کا بیٹا ہے، انہوں نے اس کے متعلق چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5719]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3427) و مسلم (20/ 1720)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه