🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (هَلْ رَأَى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اللَّهَ تَعَالَى؟)
کیا جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5729
5729 - وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِجِبْرِيلَ:"هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ  ، فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ، لَوْ دَنَوْتُ مِنْ بَعْضِهَا لَاحْتَرَقْتُ". هَكَذَا فِي الْمَصَابِيحِ.
زرارہ بن اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ (اس سوال سے) جبریل علیہ السلام لرز گئے اور فرمایا: محمد! میرے اور اس کے درمیان نور کے ستر پردے ہیں، اگر میں ان میں سے کسی کے قریب چلا جاؤں تو میں جل جاؤں۔ المصابیح میں اسی طرح ہے، اس کی سند ضعیف ہے، اسے مصابیح السنہ میں روایت کیا گیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5729]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، و ذکره البغوي في مصابيح السنة (4/ 30) [و أبو الشيخ في العظمة (677/2. 678) و الدارمي (في الرد علي المريسي ص 172) ]
٭ السند صحيح إلي زرارة رحمه الله و لکنه: مرسل .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں