🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (كَرَامَةُ خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضْرَةِ سَفِينَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کی کرامت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5949
5949 - وَعَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطَأَ الْجَيْشَ بِأَرْضِ الرُّومِ أَوْ أُسِرَ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا يَلْتَمِسُ الْجَيْشَ، فَإِذَا هُوَ بِالْأَسَدِ. فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَارِثِ! أَنَا مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مِنْ أَمْرِي كَيْتَ وَكَيْتَ، فَأَقْبَلَ الْأَسَدُ، لَهُ بَصْبَصَةٌ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ صَوْتًا أَهْوَى إِلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى بَلَغَ الْجَيْشَ، ثُمَّ رَجَعَ الْأَسَدُ  . رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
ابن منکدر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ رضی اللہ عنہ سرزمین روم میں لشکر سے بچھڑ گئے، یا انہیں قید کر لیا گیا، وہ لشکر کی تلاش میں دوڑنے لگے تو اچانک شیر سے سامنا ہو گیا، انہوں نے فرمایا: «أَبُو الْحَارِثِ» (شیر کی کنیت)! میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آزاد کردہ غلام ہوں، میرے ساتھ یہ یہ مسئلہ بنا ہے، شیر دم ہلاتا ہوا آپ کے سامنے آیا، حتیٰ کہ وہ آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، جب وہ کہیں سے (خوفناک) آواز سنتا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا، پھر وہ ان کی طرف آ جاتا حتیٰ کہ وہ لشکر کے ساتھ جا ملے پھر شیر واپس چلا گیا۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5949]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (13/ 313 ح 3732) [و صححه الحاکم (3/ 606) ووافقه الذهبي]
٭ محمد بن المنکدر لم يثبت سماعه من سفينة رضي الله عنه فالسند معلل .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں