مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ بَنِي تَمِيمٍ)
بنوتمیم کی فضیلت
حدیث نمبر: 5987
5987 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثَلَاثٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: (هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ) قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا) وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَ: (اعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے بنو تمیم کے متعلق جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین خصلتیں سنی ہیں، تب سے میں انہیں محبوب رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری امت میں دجال پر سب سے زیادہ سخت ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، ان کے صدقات آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔“ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے کچھ قیدی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں آزاد کر دو کیونکہ وہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 5987]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2543) و مسلم (198/ 2525)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه