مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے محبوب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 6023
6023 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ، أَيُّ: النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: (عَائِشَةُ) . قُلْتُ: مِنِ الرِّجَالِ؟ قَالَ: (أَبُوهَا) . قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: (عُمَرُ) فَعَدَّ رِجَالًا، فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں غزوۂ ذات السلاسل میں ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے۔“ میں نے عرض کیا: مردوں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے۔“ میں نے عرض کیا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عمر (رضی اللہ عنہ) سے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی آدمی گنے، (کہ اس کے بعد فلاں، پھر فلاں ....) پھر میں اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ مجھے ان میں سے سب سے آخر میں نہ لے جائیں، خاموش ہو گیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6023]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4358) و مسلم (8/ 2384)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه