مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عَمَلَانِ لِحَضْرَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَثْقَلُ مِنْ جَمِيعِ أَعْمَالِهِ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دو عمل ان کے تمام اعمال سے بھاری
حدیث نمبر: 6034
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 6034 - عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَكَى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهُ مِثْلُ عَمَلِهِ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهِ، وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ ، أَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْغَارِ فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ، فَدَخَلَ فَكَسَحَهُ، وَوَجَدَ فِي جَانِبِهِ ثُقْبًا، فَشَقَّ إِزَارَهُ، وَسَدَّهَا لَهُ، وَبَقِيَ مِنْهَا اثْنَانِ فَأَلْقَمَهُمَا رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ادْخُلْ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ رَأَسَهُ فِي حِجْرِهِ وَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهِ مِنَ الْجُحْرِ وَلَمْ يَتَحَرَّكْ مَخَافَةَ أَنْ يُشْبِهَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَقَطَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: (مَالَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟) قَالَ: لُدِغْتُ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، فَتَفِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ، ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ، وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهِ وَأَمَّا يَوْمُهُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -! تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنَا حَيٌّ؟ رَوَاهُ رَزِينٌ.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا گیا تو وہ رو پڑے اور کہا: میں چاہتا ہوں کہ میرے سارے عمل ان کے ایام میں سے ایک یوم اور ان کی راتوں میں سے ایک رات کی مثل ہو جائیں، رہی ان کی رات، تو وہ رات جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار کی طرف سفر کیا تھا، جب وہ دونوں وہاں تک پہنچے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! آپ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ میں آپ سے پہلے داخل ہو جاؤں، تاکہ اگر اس میں کوئی چیز ہو تو اس کا نقصان مجھے پہنچے اور آپ اس سے محفوظ رہیں، وہ اس میں داخل ہوئے، اسے صاف کیا، اور انہوں نے اس کی ایک جانب سوراخ دیکھے، انہوں نے اپنا ازار پھاڑا اور اس سے سوراخوں کو بند کیا، مگر دو سوراخ باقی رہ گئے اور انہوں نے ان پر اپنے پاؤں رکھ دیے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: تشریف لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے آئے اور اپنا سر مبارک ان کی گود میں رکھ کر سو گئے، سوراخ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پاؤں ڈس لیا گیا، لیکن انہوں نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار نہ ہو جائیں حرکت نہ کی، ان کے آنسو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر فدا ہوں، مجھے ڈس لیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعاب لگایا اور تکلیف جاتی رہی، اور بعد ازاں اس زہر کا اثر ان پر دوبارہ شروع ہو گیا اور یہی ان کی وفات کا سبب بنا، رہا ان کا دن تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی کچھ عرب مرتد ہو گئے اور انہوں نے کہا: ہم زکوٰۃ نہیں دیں گے، انہوں نے فرمایا: اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ میں نے کہا: رسول اللہ کے خلیفہ! لوگوں کو ملائیں اور نرمی کریں، انہوں نے مجھے فرمایا: کیا جاہلیت میں سخت تھے اور اسلام میں بزدل ہو گئے ہو؟ وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا، دین مکمل ہو چکا، تو کیا میرے جیتے جی دین کم (ناقص) ہو جائے گا؟ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا» ”اس کی سند بہت کمزور ہے“، رواہ رزین۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6034]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه رزين (لم أجده) [والبيھقي في دلائل النبوة (2/ 477) ]
٭ فيه فرات بن السائب عن ميمون بن مھران، و الفرات ھذا ضعيف جدًا متروک .»
٭ فيه فرات بن السائب عن ميمون بن مھران، و الفرات ھذا ضعيف جدًا متروک .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا