مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَمَكُّنُ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي دِينِ الإِسْلَامِ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دین اسلام میں رسوخ
حدیث نمبر: 6038
6038 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ) . قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: (الدِّينَ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں سو رہا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ میرے سامنے پیش کیے گئے ہیں، ان پر قمیصیں تھیں، ان میں سے کسی کی قمیص سینے تک پہنچتی تھی، کسی کی اس سے چھوٹی تھی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھ پر پیش کیے گئے، ان پر جو قمیص تھی وہ (چلتے وقت) اسے گھسیٹتے تھے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تاویل فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(اس سے) دین مراد ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6038]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه رواه البخاري (3691) و مسلم (15/ 2390)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه