مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (شَهَادَةُ أَمِيرِ المُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشَّيْخَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا)
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شیخین رضی اللہ عنہما کے متعلق گواہی
حدیث نمبر: 6057
6057 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوُا اللَّهَ لِعُمَرَ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي قَدْ وَقَعَ مِرْفَقُهُ عَلَى مَنْكِبِي يَقُولُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: (كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ) . فَالْتَفَتُّ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اور ان کا جنازہ ان کی چارپائی پر رکھا ہوا تھا، کہ اچانک ایک آدمی نے میرے پیچھے سے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھ دی، اور وہ کہہ رہے تھے: «رَحِمَكَ اللَّهُ» ”اللہ آپ پر رحم فرمائے، مجھے امید ہے کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ (دفن) کرائے گا“، کیونکہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا: ”میں، ابوبکر اور عمر تھے، میں، ابوبکر اور عمر نے کلام کیا، میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اور عمر باہر نکلے۔“ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6057]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3677) و مسلم (14/ 2389)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه