مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَمْرُ اتِّبَاعِ حَضْرَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي زَمَنِ الفِتَنِ)
فتنوں کے دور میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پیروی کا حکم
حدیث نمبر: 6082
6082 - وَعَنْ أَبِي حَبِيبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: (إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا - أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً - فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَوْ مَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟ قَالَ: (عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ) وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ. رَوَاهَا الْبَيْهَقِيُّ فِي (دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ) .
ابو حبیبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے جبکہ عثمان رضی اللہ عنہ اس میں محصور تھے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں، انہیں اجازت مل گئی، وہ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرے بعد تم فتنہ اور اختلاف دیکھو گے۔“ یا فرمایا: ”اختلاف اور فتنہ دیکھو گے۔“ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے کیا حکم ہے یا آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس (امیر) کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے دونوں احادیث دلائل النبوۃ میں روایت کی ہیں۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ» ”اس کی سند حسن ہے، اسے بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6082]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 393) [و أحمد (2/ 344. 345 ح 8522) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن