🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (تَفْضِيلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَضْرَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى حَضْرَةِ العَبَّاسِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما پر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ترجیح دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6177
6177 - وَعَنْ أُسَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا، إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ، فَقَالَا لِأُسَامَةَ: اسْتَأْذِنْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ. فَقَالَ:"أَتَدْرِي مَا جَاءَ. بِهِمَا؟"قُلْتُ: لَا"، قَالَ:"لَكِنِّي أَدْرِي، ائْذَنْ لَهُمَا"فَدَخَلَا، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟  قَالَ:"فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ"قَالَا: مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ قَالَ:"أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ"قَالَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَا: ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ"فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ؟ قَالَ:"إِنَّ عَلِيًّا سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَذَكَرَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.
اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں (باب رسالت پر) بیٹھا ہوا تھا کہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما اجازت طلب کرنے کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہمیں اجازت لے دیں، میں نے (اندر جا کر) عرض کیا، اللہ کے رسول! علی اور عباس رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت طلب کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیوں آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا، نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن میں جانتا ہوں، ان دونوں کو اجازت دے دو۔ وہ دونوں اندر آئے تو عرض کیا، اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں یہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کو اپنے اہل خانہ میں سے کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فاطمہ بنت محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ انہوں نے عرض کیا: ہم آپ کی خدمت میں آپ کے اہل خانہ کے متعلق پوچھنے نہیں آئے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے اہل (یعنی مردوں) میں سے وہ شخص مجھے زیادہ محبوب ہے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور میں نے انعام کیا، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے عرض کیا، پھر کون؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔ عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا کو ان سے مؤخر کر دیا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے پہلے ہجرت کی ہے۔ ترمذی۔ اور یہ بات: آدمی کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے۔ کتاب الزکاۃ میں گزر چکی ہے۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6177]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3819 وقال: حسن)
٭ حديث ’’ان عم الرجل صنو أبيه‘‘ تقدم (6147) و لم أجده في کتاب الزکاة .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں