🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَوَّلُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَسَطُهَا المَهْدِيُّ وَآخِرُهَا المَسِيحُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ)
وہ امت کیسے ہلاک ہوگی جس کا اوّل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسط مہدی اور آخر مسیح علیہم السلام ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6287
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 6287 - عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَبْشِرُوا وَأَبْشِرُوا إِنَّمَا مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْغَيْثِ لَا يُدْرَى آخِرُهُ خَيْرٌ أَمْ أَوَّلُهُ  أَوْ كَحَدِيقَةٍ أُطْعِمَ مِنْهَا فَوْجٌ عَامًا ثُمَّ أُطْعِمَ مِنْهَا فَوْجٌ عَامًا لَعَلَّ آخِرَهَا فَوْجًا أَنْ يَكُونَ أَعْرَضَهَا وَأَعْمَقَهَا عُمْقًا وَأَحْسَنَهَا حُسْنًا كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا أَوَّلُهَا وَالْمَهْدِيُّ وَسَطُهَا وَالْمَسِيحُ آخِرُهَا وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ فَيْجٌ أَعْوَجُ لَيْسُوا مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُمْ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
جعفر اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، خوش ہو جاؤ، میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے، معلوم نہیں اس کے آخر میں خیر ہے یا اس کے اول میں خیر ہے، یا ایک باغ کی طرح ہے، اس میں سے ایک سال ایک فوج کو خوراک دی گئی، پھر ایک سال اس میں سے ایک اور فوج کو خوراک دی گئی، شاید کہ آخری فوج پہنائی کے اعتبار سے زیادہ وسیع اور گہرائی کے لحاظ سے زیادہ گہری ہو اور خوبصورتی کے اعتبار سے زیادہ حسین ہو، وہ امت کیسے ہلاک ہو گی جس کے شروع میں میں ہوں، مہدی اس کے وسط میں ہے اور مسیح علیہ السلام اس کے آخر میں ہے، لیکن اس دوران ایک گروہ کج رو اور ٹیڑھا ہو گا وہ مجھ سے ہیں نہ میں ان سے ہوں۔“ «لَمْ أَجِدْهُ» ”میں نے اسے (مآخذ میں) نہیں پایا“، اسے رزین نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6287]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده) وانظر الحديث المتقدم (3340)
٭ و للحديث شاھد منکر في تاريخ دمشق (50/ 365، 5/ 380) سنده مظلم (انظر الضعيفة للألباني: 2349)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں