مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ المُحَدِّثِينَ)
محدثین کی فضیلت
حدیث نمبر: 6292
6292 - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ وَلَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ . قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ: هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل شام خراب ہو جائیں تو پھر تم میں (وہاں رہنے یا اس طرف جانے میں) کوئی بہتری نہیں ہوگی، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا، انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا ان کا کوئی نقصان نہیں کرے گا حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے۔“ ابن المدینی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ اصحاب الحدیث ہیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس کی سند صحیح ہے اور اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6292]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2192)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح