مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 10995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں پرکاہ سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورباسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10995]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 10996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ فَقَدْ بَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ؟، قَالَ:" نَعَمْ، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا"، قَالَ: فَضَرَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ، فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّيحِ.
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے غزوہ خندق کے دن بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارے دل تو اچھل کر حلق میں آگئے ہیں، کوئی دعاء پڑھنے کے لئے ہو تو بتا دیجئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! یہ دعاء پڑھو کہ اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال اور ہمارے خوف کو امن سے تبدیل فرما، اس کے بعد اللہ نے دشمنوں پر آندھی کو مسلط کردیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10996]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وفيه سقط، فربيع: هو ابن عبدالرحمن بن أبى سعيد الخدري، يروي عن أبيه عن جده، وفي الباب فى الدعاء عن ابن عمر سلف مطولا، برقم:4785 بإسناد صحيح
حدیث نمبر: 10997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَسَنٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا، قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ نَسِيتُ اسْمَهُ، وَلَكِنْ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ أَوْ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ يَعْرِفُ مَنْ يَحْمِلُهُ، وَمَنْ يُغَسِّلُهُ، وَمَنْ يُدَلِّيهِ فِي قَبْرِهِ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ أَبِي سَعِيدٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟، قَالَ: مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت اپنے اٹھانے والوں، غسل دینے والوں اور قبر میں اتارنے والوں تک کو جانتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10997]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام راويه عن أبى سعيد .
حدیث نمبر: 10998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ " أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور " جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں " کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10998]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 10999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَرْدَانُبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10999]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ، فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ، فَأَقْعَدَهُ، قَالَ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلُكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لَهُ: اسْكُنْ، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، فَيَقُولَ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ بِهِ هَذَا، وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ثُمَّ يَقْمَعُهُ قَمْعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ"، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هُبِلَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27.
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک جنازے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اس امت کی آزمائش قبروں میں بھی ہوگی، چنانچہ جب انسان کو دفن کرکے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں، تو ایک فرشتہ " جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے " آکر اسے بٹھا دیتا ہے اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، یہ سن کر فرشتہ کہتا ہے کہ تم نے سچ کہا، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ اور اگر وہ کافر یا منافق ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا ضرور تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اپنے گرز سے اس پر اتنی زور سے ضرب لگاتا ہے جس کی آواز جن و انس کے علاوہ اللہ کی ساری مخلوق سنتی ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ فرشتہ تو جس کے سامنے بھی ہاتھ میں گرز لے کر کھڑا ہوگا، اس پر گھبراہٹ طاری ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ایمان والوں کو کلمہ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11000]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 11001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَتْرُ بِلَيْلٍ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر رات ہی کو پڑھے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11001]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م:754 .
حدیث نمبر: 11002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ، مِسْكٌ خَالِصٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدقَ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11002]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 2928 .
حدیث نمبر: 11003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور منبر کا درمیانی فاصلہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر لگایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11003]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِنَّ وَاللَّهِ فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ، فَمَا يَقُولُ ذَاكَ، أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُخْرِجُ مَسْأَلَتَهُ مِنْ عِنْدِي يَتَأَبَّطُهَا" يَعْنِي تَكُونُ تَحْتَ إِبْطِهِ، يَعْنِي نَارًا، قَالَ: قَالَ: عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ؟، قَالَ:" فَمَا أَصْنَعُ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا ذَاكَ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے فلاں فلاں دو آدمیوں کو خوب تعریف کرتے ہوئے اور یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے انہیں دو دینار عطاء فرمائے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن بخدا! فلاں آدمی ایسا نہیں ہے، میں نے اسے دس سے لے کر سو تک دینار دئیے ہیں، وہ کیا کہتا ہے؟ یاد رکھو! تم میں سے جو آدمی میرے پاس سے اپنا سوال پورا کرکے نکلتا ہے وہ اپنی بغل میں آگ لے کر نکلتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ انہیں دیتے ہی کیوں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیا کروں؟ وہ اس کے علاوہ مانتے ہی نہیں اور اللہ میرے لئے بخل کو پسند نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11004]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح .