🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

275. بَقِيَّةُ حَدِيثِ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16065
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , سَمِعَ خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ الْأَسَدِيَّ , يَقُولُ:" أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ كَيْفَ يَشَاءُ وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ وَلَنْ يَمُوتُوا إِلَّا هَمًّا , أَوْ غَيْظًا , أَوْ حُزْنًا".
سیدنا خریم بن فاتک کہتے ہیں کہ اہل شام زمین میں خدائی کوڑا ہیں اللہ ان کے ذریعے جس سے چاہتا ہے انتقام لے لیتا ہے اور ان کے منافقین کے لئے ان کے مومنین پر غالب آن احرام کر دیا گیا ہے وہ جب بھی مریں گے تو غم غصے کی اور پریشانی کی حالت ہی میں مریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16065]

الحكم على الحديث:
أثر ضعيف، أيوب بن ميسرة له ماينكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16066
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَيَّافٌ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ ، عَنِ أَبِيهِ شُرَاحْيلَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ :" إِنَّ لِي أَرْحَامًا بِمِصْرَ يَتَّخِذُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْنَابِ , قَالَ: وَفَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: لَا تَكُونُوا بِمَنْزِلَةِ الْيَهُودِ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا , قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا، فَعَصَرَهُ، فَشَرِبَهُ؟ قَالَ: لَا بَأْسَ , فَلَمَّا نَزَلْتُ، قَالَ: مَا حَلَّ شُرْبُهُ حَلَّ بَيْعُهُ".
شراحیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر سے پوچھا کہ میرے کچھ رشتہ دار جو مصر میں رہتے ہیں انگوروں کی شراب بناتے ہیں انہوں نے حیرانگی سے پوچھا کہ کیا مسلمان بھی یہ کام کرتا ہے میں نے کہا جی ہاں وہ فرمانے لگے کہ تم یہو دیوں کی طرح نہ ہو جاؤ اور ان پر چربی حرام ہوئی تھی تو وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے میں نے ان سے پوچھا کہ اس شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جو انگوروں کا خوشہ پکڑے اور اسے نچوڑے اور اسی وقت اس کا عرق پی جائے انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے جب میں اترنے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ جس چیز کا پینا حلال ہے اس کی تجارت بھی حلال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16066]

الحكم على الحديث:
أثر حسن، طياف الإسكندراني وشيخه مجهولان، وقد توبعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبُه بْنُ مَيْمُونٍ الْأَشْعَرِيُّ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَكْحُولٍ رَفَعَهُ، قَالَ:" أَيُّمَا شَجَرَةٍ أَظَلَّتْ عَلَى قَوْمٍ، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ مِنْ قَطْعِ مَا أَظَلَّ أَوْ أَكْلِ ثَمَرِهَا".
مکحول کہتے ہیں جو درخت کسی قوم پر سایہ کرتا ہواس کے مالک کو اختیار ہے کہ اس کا سایہ ختم کر دے یا اس کا پھل کھالے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16067]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإرساله، مكحول تابعي لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں