🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

424. حَدِيثُ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بَلَغَنِي أَنَّ لَهُ صُحْبَةً
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16711
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ: عَمْرُو بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ الْأَسْوَافَ، وَقَالَ: فَأَثَرْتُ، وَقَالَ الْقَوَارِيرِيُّ مَرَّةً: فَأَخَذْتُ دُبْسيَتَيْنِ، قَالَ: وَأُمُّهُمَا تُرَشْرِشُ عَلَيْهِمَا، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آخُذَهُمَا، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيَّ أَبُو حَسَنٍ، فَنَزَعَ مِتِّيْخَةً، قَالَ: فَضَرَبَنِي بِهَا، فَقَالَتْ لِي: امْرَأَةٌ مِنَّا، يُقَالُ لَهَا: مَرْيَمُ لَقَدْ تَعِسْتَ مِنْ عَضُدِهِ، وَمِنْ تَكْسِيرِ الْمِتِّيْخَةِ، فَقَالَ لِي: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ!.
یحییٰ بن عمارہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ریتلی جگہ پر پہنچا، وہاں میں نے دو چھوٹے پرندے پکڑ لئے، ان کی ماں یہ دیکھ کر اپنے پر پھڑپھڑانے لگی، اس اثناء میں ابوحسن آ گئے، انہوں نے اپنی لاٹھی نکالی اور مجھے اس سے مارنے لگے، ہمارے خاندان کی ایک عورت جس کا نام مریم تھا، کہنے لگی کہ تم اس کا بازو توڑ ڈالو گے یا چھڑی، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16711]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16712
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ، وَيُقَالَ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ.
سیدنا ابوحسن سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، یہاں تک کہ دف ب جائے جائیں اور یہ کہا جائے کہ ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمارے پاس آئے، تم ہمیں مبارک دو، ہم تمہیں مبارک دیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16712]

الحكم على الحديث:
إسناده مظلم، حسين بن عبدالله كذاب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16713
(حديث موقوف) قال قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ، وَكَانَ ثِقَةً رَجُلًا صَالِحًا، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ ، قَالَ: كَانَتْ لِي جُمَّةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُهَا، فَرَآنِي أَبُو حَسَنٍ الْمَازِنِيُّ ، فَقَالَ:" تَرْفَعُهَا لَا يُصِيبُهَا التُّرَابُ! وَاللَّهِ لَأَحْلِقَنَّهَا، فَحَلَقَهَا.
عمرو بن یحییٰ اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میرے سر کے بال بہت بڑے تھے، میں جب سجدہ کرتا تھا تو انہیں اپنے ہاتھ سے اوپر کرتا تھا، ایک مرتبہ سیدنا ابوحسن نے مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو فرمانے لگے کہ تم انہیں اس لئے اوپر کرتے ہو کہ انہیں مٹی نہ لگ جائے، بخدا! میں انہیں کاٹ کر رہوں گا، چنانچہ انہوں نے وہ بال کاٹ دیئے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16713]

الحكم على الحديث:
هذا الأثر ضعيف للشك بين والد عمرو بن يحيى أو عمه، ولم يتبين لنا من هو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں