مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
985. حَدِيثُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 22330
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَصُوغُ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْنَنِي , أَنَّهُنَّ لَسَمِعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، فَمَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى" .
ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا سنار تھا انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچی جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22330]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا، أبو جعفر سيئ الحفظ، ويحيى البكاء متروك، لكن متن الحديث صحيح