🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1027. حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22716
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَكْرَهِ وَالْمَنْشَطِ، وَالْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْأَثَرَةِ عَلَيْنَا، وَأَنْ نُقِيمَ أَلْسُنَنَا بِالْعَدْلِ أَيْنَمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ" , قَالَ عَفَّانُ: أَلْسِنَتَنَا.
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی وسستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22716]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22717
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَتَصْدِيقٌ بِهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ , قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ , قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اس کی تصدیق کرنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا سائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اس سے نچلے درجے کے متعلق پوچھ رہاہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طبیعت کی نرمی اور صبر کرنا سائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اس سے بھی نچلے درجے کے متعلق پوچھ رہا ہوں فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو فیصلہ فرما لیا ہو اس میں اللہ تعالیٰ کے متعلق برا گمان نہ رکھو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22717]

حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22718
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ" .
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کے پہلو سے ایک بال توڑا اور فرمایا لوگو! خمس کو نکال کر میرے مال غنیمت میں سے اتنی مقدار بھی حلال ہے اور خمس بھی تم پر ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22718]

حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن عياش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22719
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ" .
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو کیونکہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22719]

حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يسمعه من أبى أمامة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22720
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: " عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ أَبُو الْوَلِيدِ بَدْرِيٌّ عَقَبِيٌّ شَجَرِيٌّ وَهُوَ نَقِيبٌ" . حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُقَالُ لَهُ الْمُخْدَجِيُّ ، قَالَ: كَانَ بِالشَّامِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ: الْوَتْرُ وَاجِبٌ , قَالَ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَتْرَ وَاجِبٌ! قَالَ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ، مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا، جَاءَ وَلَهُ عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ ضَيَّعَهُنَّ اسْتِخْفَافًا جَاءَ وَلَا عَهْدَ لَهُ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ" .
یحییٰ بن سعد انصاری کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو الولید ہے وہ بدری صحابی ہیں بیعت غقبہ اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے اور نقباء مدینہ میں شامل تھے۔ مخدجی " جن کا تعلق بنو کنانہ سے تھا کہتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری آدمی تھا جس کی کنیت ابو محمد تھی اس کا یہ کہنا تھا کہ وتر واجب (فرض) ہیں وہ مخدجی ' حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابو محمد وتر کو واجب قرار دیتے ہیں حضرت عبادہ نے فرمایا کہ ابو محمد سے غلطی ہوئی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کردی ہیں جو شخص انہیں اس طرح ادا کرے کہ ان میں سے کسی چیز کو ضائع نہ کرے اور ان میں کا حق معمولی نہ سمجھے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو انہیں اس طرح ادا نہ کرے تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف فرما دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22720]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22721
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ، فَرُفِعَتْ، فَقَالَ:" خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ فَرُفِعَتْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ" , حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، وَقَالَ:" الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ الَّتِي تَبْقَى".
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے گھر سے نکلے تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے اس کی وجہ سے اس کی تعین اٹھالی گئی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو تم شب قدر کو (آخری عشرے کی) نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22721]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 49
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22722
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ , وَحَجَّاجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" ..
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22722]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6987، م: 2264
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22723
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22723]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهذا الحديث من مسند أنس بن مالك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22724
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ" , حَتَّى خَصَّ الْمِلْحَ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنَّ هَذَا لَا يَقُولُ شَيْئًا لِعُبَادَةَ، فَقَالَ عُبَادَةُ: إِنِّي وَاللَّهِ لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَكُونَ بِأَرْضٍ يَكُونُ فِيهَا مُعَاوِيَةُ، أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ.
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کے کو چاندی کے بدلے برابر برابر بیچا جائے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ نمک کا بھی تذکرہ فرمایا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے فرمایا وہ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہہ سکتے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں اس علاقے میں نہ ہوں جہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہوں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے اور میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22724]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وأشار البخاري إلى انقطاع بين حكيم بن جابر وعبادة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22725
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا، وَلَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ" .
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی و سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22725]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، سماع عبادة بن الوليد من جده سواء صح أو لم يصح، فقد عرفت الواسطة بينهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں