مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1028. حَدِيثُ أَبِي مَالِكٍ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22856
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ: جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَجْلَانَ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَيَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھئے کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور آدمی کو پائے اور اسے قتل کر دے تو کیا بدلے میں اسے بھی قتل کردیا جائے گا یا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو اچھا نہیں سمجھا۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو جدا کردیا (طلاق دے دی) اور یہ چیز لعان کرنے والوں کے درمیان رائج ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22856]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22857
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" ..
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ! نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22857]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22858
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22858]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22859
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22859]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1957، م: 1098
حدیث نمبر: 22860
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أُمِّهِ , قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ: " سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ مِنْ بُضَاعَةَ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیربضاعہ کا پانی پلایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22860]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم محمد بن أبى يحيي
حدیث نمبر: 22861
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالْخَنْدَقِ فَأَخَذَ الْكِرْزِينَ فَحَفَرَ بِهِ، فَصَادَفَ حَجَرًا، فَضَحِكَ، قِيلَ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " ضَحِكْتُ مِنْ نَاسٍ يُؤْتَى بِهِمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي النُّكُولِ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی کدال پکڑی اور خندق کھودنے لگے اچانک ایک پتھر سامنے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے کسی نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو فرمایا میں ان لوگوں پر ہنس رہا ہوں جنہیں مشرق کی جانب سے بیڑیوں میں جکڑ کر لایا گیا اور جنت کی طرف ہانک دیا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22861]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الفضيل بن سليمان
حدیث نمبر: 22862
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بُعِثْتُ وَالسَّاعَةُ هَكَذَا"، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جیسے یہ انگلی اس انگلی کے قریب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22862]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5301، م: 2950
حدیث نمبر: 22863
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْقَاصِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَدْ اقْتَتَلُوا وَتَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتْ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي فَأُقِيمَ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَأَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَيْثُ ذَهَبَ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ حَتَّى بَلَغَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ وَقَفَ وَجَعَلَ النَّاسُ يُصَفِّقُونَ لِيُؤْذِنُوا أَبَا بَكْرٍ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ الْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ مَعَ النَّاسِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ اثْبُتْ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَدْعُو، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ الْقَهْقَرَى حَتَّى جَاءَ الصَّفَّ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُكُمْ وَنَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ فَجَعَلْتُمْ تُصَفِّقُونَ؟ إِذَا نَابَ أَحَدَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّمَا التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ"، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" لِمَ رَفَعْتَ يَدَيْكَ؟ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟" قَالَ: رَفَعْتُ يَدَيَّ لِأَنِّي حَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَيْتُ مِنْكَ، وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی تھی جن کے درمیان صلح کرانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے نماز کا وقت آیا تو حضرت بلال سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا اے ابوبکر! نماز کا وقت ہوچکا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود نہیں ہیں کیا میں اذان دے کر اقامت کہوں تو آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھا دیں گے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہاری مرضی چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان و اقامت کہی اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز شروع کردی۔ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے لوگ تالیاں بجانے لگے جسے محسوس کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ اپنی ہی جگہ رہو لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھا دی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کی یہ جرأت کہاں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم لوگوں نے تالیاں کیوں بجائیں؟ انہوں نے عرض کیا تاکہ ابوبکر کو مطلع کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تالیاں بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے اور سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22863]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 684، م: 421
حدیث نمبر: 22864
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُسَلِّمُ فِي صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے اپناچہرہ اس قدر پھیرتے کہ رخسار مبارک کی سفید نظر آتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22864]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولجهالة محمد بن عبدالله
حدیث نمبر: 22865
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءِ الحِمْيَريِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِيكُمْ كِتَابُ اللَّهِ يَتَعَلَّمُهُ الْأَسْوَدُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ، تَعَلَّمُوهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يَتَعَلَّمُهُ أُنَاسٌ، وَلَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَيُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ، فَيَتَعَجَّلُونَ أَجْرَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں اللہ کی کتاب موجود ہے جو سیاہ سرخ اور سفید سب ہی سیکھیں گے تم وہ زمانہ آنے سے پہلے اسے سیکھ لو جبکہ کچھ لوگ اسے سیکھیں گے اور وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور اسے تیر کے طرح سیدھا کریں گے اور اس کا ثواب آخرت پر رکھنے کی بجائے دنیا ہی طلب کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22865]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة