مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1101. حَدِيثُ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23689
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عُفَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ يُقَالُ لَهُ: نَافِعٌ أَبُو طَيِّبَةَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ خَرَاجِهِ، فَقَالَ: " لَا تَقْرَبْهُ" فَرَدَّدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اعْلِفْ بِهِ النَّاضِحَ، وَاجْعَلْهُ فِي كِرْشِهِ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23689]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عفير الأنصاري
حدیث نمبر: 23690
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَسْأَلْهُ فِيهَا حَتَّى قَالَ لَهُ: " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23690]
الحكم على الحديث:
إسناده متصل صحيح إن كان ابن محيصة سمع من جده محيصة سمع من جده محيصة
حدیث نمبر: 23691
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتْ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا" .
حرام بن محیصہ (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچا دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23691]
الحكم على الحديث:
إسناده مرسل صحيح
حدیث نمبر: 23692
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو طَيِّبَةَ يَكْسِبُ كَسْبًا كَثِيرًا، فَلَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ اسْتَرْخَصَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ فِيهِ وَيَذْكُرُ لَهُ الْحَاجَة، حَتَّى قَالَ لَهُ: " لِتُلْقِ كَسْبَهُ فِي بَطْنِ نَاضِحِك" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابو طیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23692]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، وحرام بن ساعدة بن محيصة ليست له صحبة
حدیث نمبر: 23693
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ حَجَّامٍ لَهُ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ يُكَلِّمُهُ حَتَّى قَالَ: " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زرمحصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23693]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وفي سماع حرام بن سعد من جده محيصة نظر
حدیث نمبر: 23694
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَسَمِعَهُ الزُّهْرِيُّ ، من سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ الْأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتْ بِاللَّيْلِ" ..
حرام بن محیصہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچادی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23694]
الحكم على الحديث:
إسناده مرسل صحيح
حدیث نمبر: 23695
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23695]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23696
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَنَهَاهُ، فَذَكَرَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: " اعْلِفْ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23696]
الحكم على الحديث:
إسناده متصل صحيح إن كان حرام بن سعد ابن محيصة سمع من جده، وقوله هنا : "عن أبيه" أراد به جده، وليس لأبيه سعد بن محيصة صحبة
حدیث نمبر: 23697
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْهُ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ" .
حرام بن محیصہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچا دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23697]
الحكم على الحديث:
مرسل صحيح، وقوله فيه : "عن ابيه" وهم من عبدالرزاق
حدیث نمبر: 23698
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ لَهُ الْحَاجَةَ، فَقَالَ: " اعْلِفْهُ نَوَاضِحكَ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23698]
الحكم على الحديث:
إسناده متصل صحيح إن كان حرام بن سعد بن محيصة سمع من جده