مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1183. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26835
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ , يَقُولُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز خانہ کعبہ کو نکال کر دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26835]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى ذكر ابن عباس فيه، فصححه مسلم، ونفاه البخاري
حدیث نمبر: 26836
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26836]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى ذكر ابن عباس فيه، فصححه مسلم، ونفاه البخاري
حدیث نمبر: 26837
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِيهِ , أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز خانہ کعبہ کو نکال کر دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26837]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه على ليث بن سعد
حدیث نمبر: 26838
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخٍ أَبُو بَكَّارٍ ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ خَرَجَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَمَّا اسْتَوَى، ظَنُّوا أَنَّهُ يُكَبِّرُ، فَالْتَفَتَ، فَقَالَ: اسْتَوُوا لِتَحْسُنَ شَفَاعَتُكُمْ، فَإِنِّي لَوْ اخْتَرْتُ رَجُلًا لَاخْتَرْتُ هَذَا، إِلَّا أَنَّهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيطٍ , عَنْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ مَيْمُونَةُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" , قَالَ: فَسَأَلْتُ أَبَا الْمَلِيحِ، عَنِ الْأُمَّةِ، فَقَالَ: أَرْبَعُونَ.
ابوبکار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابوالملیح کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے فرمایا کہ صفیں درست کرلو اور اچھے انداز میں اس کی سفارش کرو، اگر میں کسی آدمی کو پسند کرتا تو اس مرنے والے کو پسند کرتا، پھر انہوں نے اپنی سند سے حضرت میمونہ کی یہ روایت سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی نماز جنازہ ایک جماعت پڑھ لے تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے ابوالملیح کہتے ہیں کہ جماعت سے مراد چالیس سے سو تک یا اس سے زیادہ افراد ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26838]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد فقد اختلف فيه على أبى المليح، عبدالله بن سليط مجهول
حدیث نمبر: 26839
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُجَهِّزُ بَعْثًا، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ، فَجَاءَهُ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ بَيْنَهُمْ، فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقَ الْعَصْرَ، وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَوْ فَعَلَ شَيْئًا، يُحِبُّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ" .
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور اس کے بعد حضرت میمونہ کے پاس ایک قاصد اور اس کے پیچھے ایک اور آدمی کو بھیجا، حضرت میمونہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر کو روانہ فرما رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں نہیں تھیں، تھوڑی دیر بعد زکوٰۃ و صدقات کے کچھ جانورآ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے درمیان انہیں تقسیم فرمانے لگے، اسی مصروفیت میں نماز عصر کا وقت ہوگیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ نماز عصر سے پہلے دو رکعتیں یا جتنی اللہ کو منظور ہوتی نماز پڑھتے تھے اس دن نماز عصر پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دو رکعتیں پڑھ لیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پڑھا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی کام کرتے تو اس پر مداومت کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26839]
الحكم على الحديث:
صلاة النبى ﷺ ركعتين بعد العصر صحيح، وقولها: وكان إذا صلى صلاة أو فعل شيئا، يحب أن يداوم عليهصحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلة
حدیث نمبر: 26840
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ اسْتَدَانَ دَيْنًا، يَعْلَمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ، أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ" .
حضرت میمونہ کے حوالے سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی کسی سے قرض لیتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کا اسے ادا کرنے کا ارادہ بھی ہے تو اللہ اسے ادا کروا دیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26840]
الحكم على الحديث:
صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمع من ميمونة
حدیث نمبر: 26841
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ الْأَصَمِّ ابْنَ أَخِي مَيْمُونَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَهَا، وَهُمَا حَلَالَانِ بِسَرِفٍ، بَعْدَمَا رَجَعَ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سرف میں نکاح اس وقت فرمایا تھا جب ہم لوگ احرام سے نکل آئے تھے اور مکہ مکرمہ سے واپس روانہ ہوگئے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26841]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف فى وصله وأرساله، وأرساله أصح
حدیث نمبر: 26842
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِسْلًا، فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِثَوْبٍ حِينَ اغْتَسَلَ، فَقَالَ: بِيَدِهِ هَكَذَا" ، يَعْنِي: رَدَّهُ.
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غسل کا پانی رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت فرمایا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماچکے تو میں ایک کپڑا (تولیہ) لے کر حاضر ہوئی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26842]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 317
حدیث نمبر: 26843
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِسْلًا، " فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْحَائِطِ، أَوْ الْأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھو کو دھوتے تھے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے شرمگاہ کو دھوتے اور زمین پر ہاتھ مل کر اسے دھو لیتے پھر نماز والا وضو فرماتے پھر سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے اور غسل کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھو لیتے (کیونکہ وہاں پانی کھڑا ہوجاتا تھا [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26843]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26844
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ، جَافَى حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو اپنے بازوؤں کو پہلو سے اتنا جدا رکھتے کہ پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26844]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 497