مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(علم کی تبلیغ اور تین خصوصیات کی اہمیت)
حدیث نمبر: 88
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ غَيْرَ مَرَّةٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي، فَوَعَاهَا، وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلاثٌ لا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلاصُ الْعَمَلِ، وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، فَإِنَّ الدَّعْوَةَ تُحِيطُ مَنْ وَرَائَهُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمٰن اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو خوش رکھے جو ہماری کوئی بات سن کر اسے محفوظ کر لے اسے یاد رکھے اور پھر اس کی تبلیغ کرے، کیونکہ بعض اوقات براہ راست علم حاصل کرنے والا شخص عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات براہ راست علم حاصل کرنے والا شخص اس تک منتقل کر دیتا ہے، جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں، جن کے بارے میں مسلمان کا دل دھوکے کا شکار نہیں ہوتا (یعنی مسلمان کے دل میں یہ تین خصوصیات ہونی چاہئیں) عمل کا خالص ہونا، مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ دعا ان کے پیچھے موجود افراد کو بھی گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔“ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5126، 5296، وصحيح ابن حبان: 66، 68، 69، وأحمد فى "مسنده" برقم: 4240»