مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(ابواء کی رات ہار گرنے اور تیمم کی آیت کی روایت)
حدیث نمبر: 165
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا سَقَطَتْ قِلادَتُهَا لَيْلَةَ الأَبْوَاءِ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي طَلَبِهَا، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ، فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَصْنَعَانِ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ تَكْرَهِينَهُ إِلا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: «ابواء» کی رات ان کا ہار گر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے دو آدمی اس کی تلاش میں بھیجے، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا، ان دونوں کے ساتھ پانی نہیں تھا، انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کریں، تو تیمم سے متعلق آیت نازل ہو گئی۔ اس پر سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں) کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے، آپ کے ساتھ جب بھی کوئی معاملہ پیش آیا جو آپ کو ناپسند ہو تو، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس میں نکلنے کا راستہ بنا دیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں بھلائی پیدا کر دی۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 334، 336، 3672، 3773، ومسلم: 367، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 1300، 1317، 1709، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4771»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح