🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 569
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 569
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: هَذَا مِنَ الْحُمْسِ مَا شَأْنُهُ هَاهُنَا؟" قَالَ سُفْيَانُ: وَالأَحْمَسُ الشَّدِيدُ عَلَى دِينِهِ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُسَمَّى الْحُمْسَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدِ اسْتَهْوَاهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ إِنْ عَظَّمْتُمْ غَيْرَ حَرَمِكُمُ، اسْتَخَفَّ النَّاسُ بِحَرَمِكُمْ، فَكَانُوا لا يَخْرُجُونَ مِنَ الْحَرَمِ.
سیدنا محمد بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہو گیا، میں اس کی تلاش میں عرفہ آیا، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کیے ہوئے ہیں، میں نے سوچا ان کا تعلق حمس (یعنی قریش) کے ساتھ ہے، یہ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ سفیان کہتے ہیں: احمس اس شخص کو کہا جاتا ہے، جو دینی اعتبار سے سخت ہو، قریش کا نام حمس رکھا گیا تھا، کیونکہ شیطان نے انہیں ایک غلط فہمی کا شکار کر دیا تھا۔ اس نے انہیں یہ کہا کہ اگر تم لوگ اپنے حرم سے باہر کی جگہ کی تعظیم کرو گے، تو لوگ تمہارے حرم کی حدود کو کم تر محسوس کرنا شروع کر دیں گے۔ اس لیے وہ لوگ حرم کی حدود سے باہر نہیں جاتے تھے۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1664، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1220، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2823، 3057، 3059، 3060، 3061، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3849، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1710، 1778، 1779، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3013، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3995، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1920، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9547، 9548، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 17009»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں