🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 696
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 696
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَبْصَرَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ عَلَى عُطَارِدَ، وَكَرِهَهَا لَهُ وَنَهَاهُ عَنْهَا، ثُمَّ أَنَّهُ كَسَا عُمَرَ مِثْلَهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ وَتَكْسُونِي هَذِهِ؟! قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُكْسِكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهَا لِتَكْسُوَهَا النِّسَاءَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطارد نامی صاحب کے پاس ایک سیرانی (یعنی ریشمی) حلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے استعمال کرنے سے منع کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی مانند ایک حلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوایا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے عطارد کے حلے کے بارے میں، تو فلاں بات ارشاد فرمائی تھی اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مجھے پہننے کے لیے دے رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میں نے تمہیں اسی لیے نہیں دیا، کہ تم اسے پہن لو، میں نے تمہیں یہ اس لیے دیا ہے، تاکہ تم اسے خواتین کو پہننے کے لیے دو! [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 886، 948، 2104، 2612، 2619، 3054، 5841، 5981، 6081، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2068، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5113، 5439، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1381، 1559، 5310، 5314، 5315، 5322، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1076، 4040، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3591، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4267، 4268، 6032، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 351 برقم: 4804، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 239، 5515، 5814»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں