مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 801
حدیث نمبر: 801
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ، وَهُوَ بِالأَبْواءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ" , قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا جَمَعَهُمَا مَرَّةً فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ وَرُبَّمَا فَرَّقَهُمَا، وَكَانَ سُفْيَانُ، يَقُولُ: حِمَارٌ وَحْشٌ، ثُمَّ صَارَ إِلَى لَحْمِ حِمَارٍ وَحْشٍ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نیل گائے کا گوشت پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ”ابواء“ یا شاید ”ودان“ کے مقام پر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے واپس کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو ارشاد فرمایا: ”ہم نے یہ تمہیں واپس نہیں کرنا تھا۔ لیکن ہم اس وقت احرام کی حالت میں ہیں۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سفیان بعض اوقات ان دونوں روایات کو ایک ہی حدیث میں ایک ساتھ جمع کر کے بیان کر دیتے تھے اور بعض اوقات انہیں الگ، الگ کر کے بیان کرتے تھے اور سفیان پہلے صرف ”نیل گائے“ کے الفاظ نقل کرتے تھے، پھر بعد میں انہوں نے ”نیل گائے کے گوشت“ کے الفاظ نقل کرنا شروع کر دئیے۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 801]
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سفیان بعض اوقات ان دونوں روایات کو ایک ہی حدیث میں ایک ساتھ جمع کر کے بیان کر دیتے تھے اور بعض اوقات انہیں الگ، الگ کر کے بیان کرتے تھے اور سفیان پہلے صرف ”نیل گائے“ کے الفاظ نقل کرتے تھے، پھر بعد میں انہوں نے ”نیل گائے کے گوشت“ کے الفاظ نقل کرنا شروع کر دئیے۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1825، 2573، 2596، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1193، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 136، 3967، 3969، 4787، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2818، 2819، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3787، 3788، والترمذي فى «جامعه» برقم: 849، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1870، 1872، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3090، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10037، 10038، 10039، 10040، 10041، 18169، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 16683 برقم: 16686»