🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 806
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 806
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَحُمِلْتُ فِيهَا عَلَى بَكْرٍ، وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلِي فِي نَفْسِي، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلا، فَعَضَّ عَلَى يَدِهِ، فَانْتَزَعَهَا مَنْ فِيهِ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيْدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ؟"، وَأَهْدَرَهَا ,
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شریک ہوا میں نے اس جنگ میں اللہ کی راہ میں ایک جوان اونٹ دیا تھا جو میرے نزدیک میرا سب سے بہترین عمل تھا۔ میں نے اس شخص کو ملازم رکھا اس کی ایک اور شخص کے ساتھ لڑائی ہو گئی۔ اس نے اس کے ہاتھ پر کاٹا تو دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو پہلے شخص کے سامنے کے دانت گر گئے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا؟ تاکہ تم اسے یوں چبا لیتے۔ جس طرح اونٹ چباتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نقصان کو کالعدم قرار دیا۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن جريج ولكنه صرح بالتحديث عند ان أبى شيبة وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2265، 2973، 4417، 6893، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1673، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5997، 6000، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5842، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4777، 4778، 4779، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4584، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2656، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17718، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18232 برقم: 18236، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28222»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں