صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مِيرَاثِ ابْنَةِ ابْنٍ مَعَ ابْنَةٍ:
باب: بیٹی کی موجودگی میں پوتی کی میراث۔
حدیث نمبر: 6736
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو قَيْسٍ، سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ، قَالَ:" سُئِلَ أَبُو مُوسَى، عَنْ بِنْتٍ، وَابْنَةِ ابْنٍ، وَأُخْتٍ، فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ النَّصْفُ"، وَأَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَا بِعْنِي، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ" أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلْابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ ابْنٍ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ". فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى، فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان نے، انہوں نے ہزیل بن شرحبیل سے سنا، بیان کیا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور بہن کو آدھا ملے گا اور تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے یہاں جا، شاید وہ بھی یہی بتائیں گے۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر ایسا فتویٰ دوں تو گمراہ ہو چکا اور ٹھیک راستے سے بھٹک گیا۔ میں تو اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، اس طرح دو تہائی پوری ہو جائے گی اور پھر جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ان تک پہنچائی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ عالم تم میں موجود ہیں مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6736]
حضرت ہذیل بن شرجیل سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیٹی، پوتی اور بہن کی وراثت کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے بھی نصف ہے۔ تم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ بھی اس مسئلے میں میری موافقت کریں گے۔“ پھر جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور انہیں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بات پہنچائی گئی تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں ایسا فتویٰ دے دوں تو یقیناً میں گمراہ ہو گیا اور ٹھیک راستے سے بھٹک گیا۔ میں اس کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کو نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ دیا جائے گا، اس طرح دو تہائی پورے ہو جائیں گے اور جو باقی بچے گا وہ بہن کو دیا جائے گا، وہ بہن کو دیا جائے گا۔“ ہم دوبارہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فتویٰ سے آگاہ کیا تو انہوں نے فرمایا: ”جب تک علم کا یہ سمندر تم میں موجود ہے مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔“” [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6736]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة