🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 1025
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَرَأَ أَحَدُكُمْ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَأَتَى عَلَى آخِرِهَا أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40، فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَإِذَا قَرَأَ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا، فَأَتَى عَلَى آخِرِهَا فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50، فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ، وَإِذَا قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَأَتَى عَلَى آخِرِهَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ سورة التين آية 8، فَلْيَقُلْ: بَلَى" , وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ , قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَاسْتَعَدْتُ الأَعْرَابِيَّ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَتَرَانِي لَمْ أَحْفَظْهُ؟ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حِجَّةً مَا مِنْهَا حِجَّةٌ إِلا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص یہ آیت تلاوت کرے: «لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» (75-القيامة:1) میں قیامت کے دن کی قسم نہیں اٹھاتا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے آخر تک پہنچ جائے: «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى» (75-القيامة:40) کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ تو آدمی کو چاہئے کہ اس وقت یہ کہے: جی ہاں۔ اور جب کوئی شخص یہ سورت تلاوت کرے: «وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا» (77-المرسلات:1) اور اسے آخر تک تلاوت کرے: «فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ» (77-المرسلات:50) اس کے بعد وہ کون سی حدیث پر ایمان رکھیں گے؟ تو آدمی کو چاہئے کہ وہ یہ کہے: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور جب کوئی شخص سورہ تین «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» (95-التين:1) کی تلاوت کرے اور اس کے آخر تک پہنچے: «أَلَيْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» (95-التين:8) کیا اللہ تعالیٰ سب سے زبردست حاکم نہیں ہے؟ تو آدمی کو چاہئے کہ یہ کہے: جی ہاں۔ سفیان نامی راوی بعض اوقات یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: جی ہاں! اور میں بھی گواہی دینے والوں کے ساتھ ہوں۔ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل نے یہ بات بیان کی ہے میں نے اس دیہاتی سے دریافت کیا: تم یہ حدیث دوبارہ مجھے سناؤ! تو وہ بولا: اے میرے بھتیجے! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھے یہ حدیث یاد نہیں ہوگی۔ میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور مجھے ان میں سے ہر ایک حج کے بارے میں یہ یاد ہے کہ میں نے کون سے اونٹ پر بیٹھ کر وہ حج کیا تھا؟ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة، وأخرجه ابن حاتم فى «علل الحديث» ‏‏‏‏ برقم: 1763 من طريق الحميدي هذا۔ وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 3904، وأبو داود فى «سننه» برقم: 887، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3347، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3755، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7509»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں