🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 1115
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلامًا أَسْوَدَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: مَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: أَنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ؟ قَالَ لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ!میری بیوی نے سیاہ فام لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ان کا رنگ کیا ہے؟“ اس نے عرض کی: سرخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟“ اس نے عرض کی: ان میں ایک خاکستری بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کہاں سے آ گیا؟“، اس نے عرض کی: شاید کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے اسے بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔“ [مسند الحميدي/بَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5305، 6847، 7314، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1500، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4106، 4107، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3478، 3479، 3480، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5642، 5643، 5644، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2260، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2128، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2002، 2003، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14358، 15459، 15460، 15461، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7310، 7311، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5869، 5886»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں