صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ}:
باب: اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ) میں فرمایا کہ ”جو لوگ اللہ اور رسول سے جنگ لڑتے اور ملک میں فساد پھیلاتے رہتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پیر الٹے سیدھے یعنی دائیں بائیں سے کاٹے جائیں یا جلا وطن یا قید کئے جائیں“۔
حدیث نمبر: 6802
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَفَعَلُوا، فَصَحُّوا، فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی (ان کے پیٹ پھول گئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں (کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6802]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند آدمی آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ طیبہ کی آب و ہوا ان کو موافق نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم صدقے کے اونٹوں کے پاس رہائش رکھو اور ان کا پیشاب اور دودھ نوش کرو۔“ انہوں نے (ایسا) کیا تو صحت یاب ہو گئے، لیکن اس کے بعد وہ دین سے برگشتہ ہو گئے اور اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے تو وہ انہیں گرفتار کر کے لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں (مخالف سمت سے) کاٹنے کا حکم دیا، نیز ان کی آنکھیں بھی پھوڑ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے زخموں پر داغ نہ دیا حتیٰ کہ وہ سسک سسک کر مر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6802]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة