🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. بَابُ جَامِعِ الصَّلَاةِ
نماز سے متعلقہ احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 422
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ"
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کام بہت پسند تھا جو ہمیشہ آدمی اس کو کرتا رہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 422]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 43، 1132، 6461، 6462، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 785، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1368، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 323، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2856 (م)، وأحمد فى «مسنده» برقم: 26076، شركة الحروف نمبر: 389، فواد عبدالباقي نمبر: 9 - كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ-ح: 90»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 423
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فَهَلَكَ أَحَدُهُمَا قَبْلَ صَاحِبِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَذُكِرَتْ فَضِيلَةُ الْأَوَّلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَمْ يَكُنِ الْآخَرُ مُسْلِمًا"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا يُدْرِيكُمْ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ، إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَاب أَحَدِكُمْ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَا تَرَوْنَ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ"
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دو بھائی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، ان میں سے ایک دوسرے سے چالیس دن پہلے مر گیا تو لوگوں نے تعریف کی اس کی جو پہلے مرا تھا۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا جانو دوسرے کی نماز نے اس کو کس درجہ پر پہنچایا؟ نماز کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نہر میٹھے پانی کی بہت گہری کسی کے دروازے پر بہتی ہو، اور وہ اس میں پانچ وقت غوطہ لگایا کرے، کیا اس کے بدن پر کچھ میل رہے گا؟ پھر تم کیا جانو کہ نماز نے دوسرے بھائی کا مرتبہ کس درجہ کو پہنچایا۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم:310، والحاكم فى «مستدركه» برقم:715، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 105/6، الطبراني فى «الأوسط» برقم: 6467، وأحمد فى «مسنده» برقم: 177/1، شركة الحروف نمبر: 389، فواد عبدالباقي نمبر: 9 - كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ-ح: 91»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 424
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ كَانَ إِذَا مَرَّ عَلَيْهِ بَعْضُ مَنْ يَبِيعُ فِي الْمَسْجِدِ دَعَاهُ، فَسَأَلَهُ:" مَا مَعَكَ , وَمَا تُرِيدُ؟" فَإِنْ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ، قَالَ: " عَلَيْكَ بِسُوقِ الدُّنْيَا وَإِنَّمَا هَذَا سُوقُ الْآخِرَةِ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ عطاء بن یسار جب دیکھتے کسی شخص کو جو سودا بیچتا ہے مسجد میں، پھر بلاتے اس کو، پھر پوچھتے اس سے: کیا ہے تیرے پاس اور تو کیا چاہتا ہے؟ اگر وہ بولتا کہ میں بیچنا چاہتا ہوں، تو کہتے: جا تو دنیا کے بازار میں، یہ تو آخرت کا بازار ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 424]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف
شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ یہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے اور شیخ احمد علی سلیمان نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 389، فواد عبدالباقي نمبر: 9 - كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ-ح: 92»

الحكم على الحديث:
مقطوع ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 425
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَنَى رَحْبَةً فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّى الْبُطَيْحَاءَ، وَقَالَ: " مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَلْغَطَ، أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا، أَوْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ فَلْيَخْرُجْ إِلَى هَذِهِ الرَّحْبَةِ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ بنا دی مسجد کے کونے میں، اس کا نام بطیحاء تھا، اور کہہ دیا تھا کہ جو کوئی بک بک کرنا چاہے، یا اشعار پڑھنا چاہیے، یا پکارنا چاہے، تو اس جگہ کو چلا جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف
شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ یہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔، شركة الحروف نمبر: 389، فواد عبدالباقي نمبر: 9 - كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ-ح: 93»

الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں