صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ إِذَا رَمَى امْرَأَتَهُ أَوِ امْرَأَةَ غَيْرِهِ بِالزِّنَا عِنْدَ الْحَاكِمِ وَالنَّاسِ، هَلْ عَلَى الْحَاكِمِ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهَا فَيَسْأَلَهَا عَمَّا رُمِيَتْ بِهِ:
باب: اگر حاکم کے سامنے کوئی شخص اپنی عورت کو یا کسی دوسرے کی عورت کو زنا کی تہمت لگائے تو کیا حاکم کو یہ لازم ہے کہ کسی شخص کو عورت کے پاس بھیج کر اس تہمت کا حال دریافت کرائے۔
حدیث نمبر: 6842
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أنهما أخبراه،" أن رجلين اختصما إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا، أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: تَكَلَّمْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، قَالَ مَالِكٌ، وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور انہیں ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور دوسرے نے جو زیادہ سمجھدار تھے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ مالک نے بیان کیا کہ «عسيف» مزدور کو کہتے ہیں اور اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی پھر جب میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کرنا ہے۔ رجم تو صرف اس عورت کو کیا جائے گا اس لیے کہ وہ شادی شدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہیں پھر ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس مذکورہ عورت کے پاس جائیں اگر وہ اقرار کر لے تو اسے رجم کر دیں چنانچہ اس نے اقرار کیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6842]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا مقدمہ لے کر آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ”ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کریں۔“ اور دوسرے نے، جو ذرا زیادہ سمجھ دار تھا، کہا: ”ہاں اللہ کے رسول! آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہی کریں لیکن مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تم بات کرو۔“ اس نے کہا: ”میرا بیٹا اس کے ہاں «عَسِيف» تھا، راویِ حدیث مالک نے کہا: «عَسِيف» نوکر کو کہتے ہیں، میرے بیٹے نے اس کی بیوی سے زنا کیا تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا۔ میں نے اپنے بیٹے کی طرف سے سو بکریاں اور ایک لونڈی بطور فدیہ دی۔ پھر میں نے اہل علم سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا بھگتنا ہوگی، اور رجم صرف اس کی بیوی پر ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہوں گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے مارے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مذکورہ عورت کے پاس جائے: ”اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دے۔“ چنانچہ اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تو انہوں نے اسے سنگسار کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6842]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6843
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أنهما أخبراه،" أن رجلين اختصما إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا، أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: تَكَلَّمْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، قَالَ مَالِكٌ، وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور انہیں ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور دوسرے نے جو زیادہ سمجھدار تھے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ مالک نے بیان کیا کہ «عسيف» مزدور کو کہتے ہیں اور اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی پھر جب میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کرنا ہے۔ رجم تو صرف اس عورت کو کیا جائے گا اس لیے کہ وہ شادی شدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہیں پھر ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس مذکورہ عورت کے پاس جائیں اگر وہ اقرار کر لے تو اسے رجم کر دیں چنانچہ اس نے اقرار کیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6843]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا مقدمہ لے کر آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ”ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کریں۔“ اور دوسرے نے، جو ذرا زیادہ سمجھ دار تھا، کہا: ”ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہی کریں، لیکن مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تم بات کرو۔“ اس نے کہا: ”میرا بیٹا اس کے ہاں «عَسِيْف» (راویِ حدیث امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: «عَسِيْف» نوکر کو کہتے ہیں) تھا۔ میرے بیٹے نے اس کی بیوی سے زنا کیا، تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا۔ میں نے اپنے بیٹے کی طرف سے سو بکریاں اور ایک لونڈی بطورِ فدیہ دی۔ پھر میں نے اہل علم سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا بھگتنا ہوگی، اور رجم صرف اس کی بیوی پر ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ملیں گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مذکورہ عورت کے پاس جائیں: ”اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تو انہوں نے اسے سنگسار کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6843]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة