🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ مَا يَفْعَلُ الْمَرِيضُ فِي صِيَامِهِ
مریض کے روزے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617Q2
قَالَ مَالِكٍ: الْأَمْرُ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ الْمَرِيضَ إِذَا أَصَابَهُ الْمَرَضُ الَّذِي يَشُقُّ عَلَيْهِ الصِّيَامُ مَعَهُ، وَيُتْعِبُهُ، وَيَبْلُغُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُفْطِرَ. وَكَذَلِكَ الْمَرِيضُ الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْقِيَامُ فِي الصَّلَاةِ، وَبَلَغَ مِنْهُ، وَمَا اللّٰهُ أَعْلَمُ بِعُذْرِ ذَلِكَ مِنَ الْعَبْدِ، وَمِنْ ذَلِكَ مَا لَا تَبْلُغُ صِفَتُهُ، فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ، صَلَّى وَهُوَ جَالِسٌ. وَدِينُ اللّٰهِ يُسْرٌ. وَقَدْ أَرْخَصَ اللّٰهُ لِلْمُسَافِرِ، فِي الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ. وَهُوَ أَقْوَى عَلَى الصِّيَامِ مِنَ الْمَرِيضِ. قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [البقرة: 184] فَأَرْخَصَ اللّٰهُ لِلْمُسَافِرِ، فِي الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ. وَهُوَ أَقْوَى عَلَى الصَّوْمِ مِنَ الْمَرِيضِ. فَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ وَهُوَ الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے جو سنا اہلِ علم سے وہ یہ ہے کہ مریض کو جب ایسا مرض لاحق ہو جس کی وجہ سے روزہ رکھنا اس پر شاق ہو جائے، اور روزہ اس کو تکلیف پہنچائے اور وہ مرض اس درجہ پہنچ جائے، تو افطار کرنا درست ہے، اسی طرح جب مریض کو کھڑا ہونا دشوار ہو نماز میں اور یہ مرض اس درجہ کو پہنچ جائے کہ عذر گنا جائے اللہ جل جلالہُ کے نزدیک، اور اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ جانتا ہے بندے سے، اور اسی مرض میں سے بعض ایسا ہے جو اس درجہ کا نہیں ہے، بہرحال جب مرض اس درجے کو پہنچے تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، کیونکہ دین اللہ تعالیٰ کا آسان ہے، اور اللہ جل جلالہُ نے مسافر کو رخصت دی روزہ نہ رکھنے کی حالانکہ وہ زیادہ قادر ہے روزہ پر مریض سے۔ فرمایا اللہ جل جلالہُ نے اپنی کتابِ مقدس میں: جو شخص تم میں سے مریض ہو یا مسافر ہو تو وہ اتنے روز شمار کر کے دوسرے دنوں میں روزہ رکھ لے۔ پس رخصت دی اللہ جل جلالہُ نے مسافر کو افطار کی، حالانکہ وہ زیادہ قادر ہے روزے پر مریض سے۔ اور یہ بہت پسند ہے مجھ کو اُن اقوال میں جن کو سنا میں نے اس باب میں، اور ہمارے نزدیک یہ امر اتفاقی اور مجمع علیہ ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 617Q2]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 622، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 39»