🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ فِي الطَّوَافِ
دوگانہ طواف کا ادا کرنا بعد نماز صبح یا عصر کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ طَوَافَهُ، نَظَرَ فَلَمْ يَرَ الشَّمْسَ طَلَعَتْ، فَرَكِبَ حَتَّى أَنَاخَ بِذِي طُوًى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ الطَّوَافِ"
حضرت عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے طواف کیا خانۂ کعبہ کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بعد نمازِ فجر کے، تو جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ طواف ادا کر چکے تو آفتاب نہ پایا، پس سوار ہوئے یہاں تک کہ بٹھایا اونٹ ذی طویٰ میں، وہاں دوگانہ طواف ادا کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4498، 4499، 4500، 9327، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2974، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9008، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 3863، 3864، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 117»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 818
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَدْخُلُ حُجْرَتَهُ، فَلَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ"
حضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کو طواف کرتے تھے بعد نمازِ عصر کے، پھر جاتے تھے اپنے حجرے میں، پھر معلوم نہیں وہاں کیا کرتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4496، 9327، 9423، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9005، 9007، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13411، 37598، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 118»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 819
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ الْبَيْتَ يَخْلُو بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا يَطُوفُ بِهِ أَحَدٌ" . قَالَ مَالِك: وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ بَعْضَ أُسْبُوعِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ أَوْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ، ثُمَّ يَبْنِي عَلَى مَا طَافَ حَتَّى يُكْمِلَ سُبْعًا، ثُمَّ لَا يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ، قَالَ: وَإِنْ أَخَّرَهُمَا حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ، فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ
حضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا خانۂ کعبہ کو خالی ہو جاتا طواف کرنے والوں سے، بعد نمازِ صبح اور بعد نمازِ عصر کے کوئی طواف نہ کرتا۔
امام ما لک نے فر مایا کہ جس نے طواف شروع کیا، پھر تکبیر ہوئی نمازِ صبح یا عصر کی تو وہ نماز پڑھے امام کے ساتھ، بعد نماز کے طواف پورا کرے، لیکن دوگانہ ادا نہ کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے یا ڈوب جائے، اور اگر بعد نمازِ مغرب کے پڑھے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 119»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 819B1
قَالَ مَالِك: وَلَا بَأْسَ أَنْ يَطُوفَ الرَّجُلُ طَوَافًا وَاحِدًا بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ، لَا يَزِيدُ عَلَى سُبْعٍ وَاحِدٍ، وَيُؤَخِّرُ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ كَمَا صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَيُؤَخِّرُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ صَلَّاهُمَا إِنْ شَاءَ. وَإِنْ شَاءَ أَخَّرَهُمَا، حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کوئی شخص ایک طواف کرے بعد نماز فجر یا عصر کے اور دوگانہ کی تاخیر کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے، جیسا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا، یا آفتاب ڈوب جائے تو کچھ قباحت نہیں ہے، اب دوگانہ طواف آفتاب ڈوبتے ہی پڑھ لے یا بعد نمازِ مغرب کے پڑھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 819B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 119»