🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُضْطَرُّ إِلَى أَكْلِ الْمَيْتَةِ
جو شخص بےقرار ہو جائے مردار کے کھانے پر اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053Q1
عَنْ مَالِكٍ أَنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرَّجُلِ يُضْطَرُّ إِلَى الْمَيْتَةِ، أَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهَا، حَتَّى يَشْبَعَ وَيَتَزَوَّدُ مِنْهَا، فَإِنْ وَجَدَ عَنْهَا غِنًى طَرَحَهَا. وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يُضْطَرُّ إِلَى الْمَيْتَةِ أَيَأْكُلُ مِنْهَا؟ وَهُوَ يَجِدُ ثَمَرَ الْقَوْمِ، أَوْ زَرْعًا أَوْ غَنَمًا بِمَكَانِهِ ذَلِكَ؟
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مضطر کو درست ہے کہ مردار کو پیٹ بھر کر کھائے، اور اس میں سے کچھ توشہ اٹھا رکھے، لیکن اگر حلال مل جائے تو اس توشہ کو پھینک دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّيْدِ/حدیث: 1053Q1]
تخریج الحدیث: « «انفرد به المصنف من هذا الطريق» ، فواد عبدالباقي نمبر: 25 - كِتَابُ الصَّيْدِ-ح: 19»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053Q2
_x000D_ قَالَ مَالِكٌ: إِنْ ظَنَّ أَنَّ أَهْلَ ذَلِكَ الثَّمَرِ أَوِ الزَّرْعِ أَوِ الْغَنَمِ يُصَدِّقُونَهُ بِضَرُورَتِهِ، حَتَّى لَا يُعَدُّ سَارِقًا فَتُقْطَعَ يَدُهُ، رَأَيْتُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ أَيِّ ذَلِكَ وَجَدَ مَا يَرُدُّ جُوعَهُ، وَلَا يَحْمِلُ مِنْهُ شَيْئًا، وَذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْكُلَ الْمَيْتَةَ، وَإِنْ هُوَ خَشِيَ أَنْ لَا يُصَدِّقُوهُ، وَأَنْ يُعَدَّ سَارِقًا بِمَا أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنَّ أَكْلَ الْمَيْتَةِ خَيْرٌ لَهُ عِنْدِي، وَلَهُ فِي أَكْلِ الْمَيْتَةِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ سَعَةٌ، مَعَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَعْدُوَ عَادٍ مِمَّنْ لَمْ يُضْطَرَّ إِلَى الْمَيْتَةِ يُرِيدُ اسْتِجَازَةَ أَخْذِ أَمْوَالِ النَّاسِ وَزُرُوعِهِمْ وَثِمَارِهِمْ بِذَلِكَ بِدُونِ اضْطِرَارٍ
سوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے کہ مضطر مردار کو کھائے یا کسی شخص کے باغ کے میوے یا کھیت یا بکری کو کھا جائے؟ امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اگر باغ یا کھیت یا بکری کا مالک مضطر کو سچا سمجھے، اور چور سمجھ کے اس کا ہاتھ نہ کٹوائے، تو ان چیزوں کا کھانا مردار سے بہتر ہے۔ اگر مضطر کو خوف ہو کہ ان چیزوں کا مالک اس کو سچا نہ سمجھے گا، بلکہ چور کا خیال کر کے اس کا ہاتھ کٹوائے گا، تو مردار کھانا بہتر ہے۔ اور اگر پرایا مال کھا جانا ہر حال میں مردار سے بہتر ہوتا تو بدمعاش لوگ پرائے مال کو اسی بہانے چکھ جائیں گے [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّيْدِ/حدیث: 1053Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 25 - كِتَابُ الصَّيْدِ-ح: 19»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053Q3
قَالَ مَالِكٌ: وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ مجھے پسند ہے جو میں نے سنا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّيْدِ/حدیث: 1053Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 25 - كِتَابُ الصَّيْدِ-ح: 19»