موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ جَامِعِ مَا جَاءَ فِي التَّدْبِيرِ
مدبر کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1300Q34
قَالَ مَالِكٌ فِي مُدَبَّرٍ قَالَ لِسَيِّدِهِ: عَجِّلْ لِي الْعِتْقَ. وَأُعْطِيكَ خَمْسِينَ مِنْهَا مُنَجَّمَةً عَلَيَّ. فَقَالَ سَيِّدُهُ: نَعَمْ. أَنْتَ حُرٌّ. وَعَلَيْكَ خَمْسُونَ دِينَارًا. تُؤَدِّي إِلَيَّ كُلَّ عَامٍ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ. فَرَضِيَ بِذَلِكَ الْعَبْدُ. ثُمَّ هَلَكَ السَّيِّدُ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ. قَالَ مَالِكٌ: يَثْبُتُ لَهُ الْعِتْقُ. وَصَارَتِ الْخَمْسُونَ دِينَارًا دَيْنًا عَلَيْهِ. وَجَازَتْ شَهَادَتُهُ. وَثَبَتَتْ حُرْمَتُهُ. وَمِيرَاثُهُ وَحُدُودُهُ. وَلَا يَضَعُ عَنْهُ مَوْتُ سَيِّدِهِ. شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ الدَّيْنِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مدبر اپنے مولیٰ سے کہے: تو مجھے ابھی آزاد کر دے میں تجھے پچاس دینار قسط وار دیتا ہوں۔ مولیٰ کہے: اچھا تو آزاد ہے تو مجھے پچاس دینار پانچ برس میں دے دینا، ہر سال دس دینار کے حساب سے۔ مدبر اس پر راضی ہو جائے، بعد اس کے دو تین دن میں مولیٰ مر جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا، اور پچاس دینار اس پر قرض رہیں گے، اور اس کی گواہی جائز ہو جائے گی، اور اس کی حرمت اور میراث اور حدود پورے ہو جائیں گے، اور مولیٰ کے مر جانے سے ان پچاس دینار میں کچھ کمی نہ ہو گی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُدَبَّرِ/حدیث: 1300Q34]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُدَبَّرِ/حدیث: 1300Q34]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»
حدیث نمبر: 1300Q35
قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ دَبَّرَ عَبْدًا لَهُ. فَمَاتَ السَّيِّدُ. وَلَهُ مَالٌ حَاضِرٌ وَمَالٌ غَائِبٌ. فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِهِ الْحَاضِرِ مَا يَخْرُجُ فِيهِ الْمُدَبَّرُ. قَالَ: يُوقَفُ الْمُدَبَّرُ بِمَالِهِ. وَيُجْمَعُ خَرَاجُهُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ مِنَ الْمَالِ الْغَائِبِ. فَإِنْ كَانَ فِيمَا تَرَكَ سَيِّدُهُ، مِمَّا يَحْمِلُهُ الثُّلُثُ، عَتَقَ بِمَالِهِ. وَبِمَا جُمِعَ مِنْ خَرَاجِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيمَا تَرَكَ سَيِّدُهُ مَا يَحْمِلُهُ، عَتَقَ مِنْهُ قَدْرُ الثُّلُثِ، وَتُرِكَ مَالُهُ فِي يَدَيْهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے غلام کو مدبر کرے، پھر مر جائے، اور اس کا مال کچھ موجود ہو کچھ غائب ہو، جس قدر موجود ہو اس کے تہائی میں سے مدبر آزاد نہ ہو سکے، تو مدبر کو روک رکھیں گے، اور اس کی کمائی کو بھی جمع کرتے جائیں گے، یہاں تک کہ جو مال غائب ہے وہ بھی نکل آئے، پھر اگر مولیٰ کے کل مال کے تہائی میں سے مدبر آزاد ہو سکے گا تو آزاد ہو جائے، اور مدبر کا مال اور کمائی اسی کو ملے گی، اور جو تہائی میں سے کل آزاد نہ ہو سکے گا تو تہائی ہی کی مقدار آزاد ہو جائے گا، اس کا مال اسی کے پاس رہے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُدَبَّرِ/حدیث: 1300Q35]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»