موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ الْجَائِحَةِ فِي بَيْعِ الثِّمَارِ وَالزَّرْعِ
پھلوں اور کھیتوں کی بیع میں آفت کا بیان
حدیث نمبر: 1318
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ، فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ لَهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ، فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا". فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْحَائِطِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ لَهُ
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے باغ کے پھل خریدے اور اس کی درستی میں مصروف ہوا، مگر ایسی آفت آئی جس سے نقصان معلوم ہوا، تو باغ کے مالک سے کہا: یا تو پھلوں کی قیمت کچھ کم کر دو یا اس بیع کو فسخ کر ڈالو، اس نے قسم کھا لی میں ہرگز نہ کروں گا، تب خریدار کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آن کر یہ سب قصّہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا قسم کھا لی اس نے کہ میں یہ بہتری کا کام نہ کروں گا۔“ جب مالکِ باغ کو یہ خبر پہنچی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جیسا خریدار کہے وہ مجھ کو منظور ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1318]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2705، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1557، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24909، 25249، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10667، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 1319
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ " قَضَى بِوَضْعِ الْجَائِحَةِ" .
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا مشتری کو نقصان دلانے کا، جب کھیت یا میوے کو آفت پہنچے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1319]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 1319B1
قَالَ مَالِك: وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا. قَالَ مَالِك: وَالْجَائِحَةُ الَّتِي تُوضَعُ عَنِ الْمُشْتَرِي الثُّلُثُ فَصَاعِدًا، وَلَا يَكُونُ مَا دُونَ ذَلِكَ جَائِحَةً
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اس آفت سے تہائی مال یا زیادہ کا نقصان ہوا ہو، اگر اس سے کم نقصان ہوگا اس کا شمار نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1319B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 16»