صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا:
باب: جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا۔
حدیث نمبر: Q6911
وَيُذْكَرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ بَعَثَتْ إِلَى مُعَلِّمِ الْكُتَّابِ ابْعَثْ إِلَيَّ غِلْمَانًا يَنْفُشُونَ صُوفًا وَلَا تَبْعَثْ إِلَيَّ حُرًّا.
جیسا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مدرسہ کے معلم کو لکھ کر بھیجا تھا کہ میرے پاس اون صاف کرنے کے لیے کچھ غلام بچے بھیج دو اور کسی آزاد کو نہ بھیجنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: Q6911]
حدیث نمبر: 6911
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ، فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا".
مجھ سے عمر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6911]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول!“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے سفر و حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری کا فریضہ ادا کیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے متعلق جو میں نے کیا، یہ نہیں فرمایا: ”تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟“ اور نہ ہی کسی کام کے متعلق جو میں نے نہیں کیا، یہ فرمایا: ”تو نے وہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا؟““ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6911]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة