موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ تَرْكِ الشَّفَاعَةِ لِلسَّارِقِ إِذَا بَلَغَ السُّلْطَانَ
جب چور حاکم تک پہنچ جائے پھر اس کی سفارش نہیں کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 1570
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ. فَقَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَرَقْتَ رِدَاءَ هَذَا؟" قَالَ: نَعَم. فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ". فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ"
حضرت صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ سے کسی نے کہا کہ جس نے ہجرت نہیں کی تو وہ تباہ ہوا، تو صفوان مدینہ میں آئے اور مسجد نبوی میں اپنی چادر سر کے تلے رکھ کر سو رہے، چور آیا اور چادر ان کی لے گیا، صفوان نے اٹھ کر چور کو گرفتار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور سے پوچھا: ”کیا تو نے صفوان کی چادر چرائی؟“ وہ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم کیا۔ صفوان نے کہا: میری نیت یہ نہ تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ چادر تو اس پر صدقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ کو یہ امر میرے پاس لانے سے پہلے کرنا تھا۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1570]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 4394، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8241، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4885، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2595، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2352، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17311، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15379، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 28»
حدیث نمبر: 1571
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ لَقِيَ رَجُلًا قَدْ أَخَذَ سَارِقًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِهِ إِلَى السُّلْطَانِ، فَشَفَعَ لَهُ الزُّبَيْرُ لِيُرْسِلَهُ، فَقَالَ: لَا، حَتَّى أَبْلُغَ بِهِ السُّلْطَانَ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ :" إِذَا بَلَغْتَ بِهِ السُّلْطَانَ، فَلَعَنَ اللَّهُ الشَّافِعَ وَالْمُشَفِّعَ"
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ چور کو پکڑے ہوئے حاکم کے پاس لئے جاتا تھا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سفارش کی، کہا: چھوڑ دے، وہ بولا: کبھی نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ حاکم کے پاس نہ لے جاؤں گا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تو حاکم کے پاس لے گیا تو اللہ کی لعنت سفارش کرنے والے پر اور سفارش ماننے والے پر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1571]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17697، 17698، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3467، 3468، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18927، 18928، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28657، 28658، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2284، والطبراني فى «الصغير» برقم: 158، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 29»