صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ الْخِدَاعِ فِي الْبُيُوعِ:
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ دینے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: Q6964
وَقَالَ أَيُّوبُ يُخَادِعُونَ اللَّهَ كَأَنَّمَا يُخَادِعُونَ آدَمِيًّا لَوْ أَتَوْا الْأَمْرَ عِيَانًا كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ.
اور ایوب نے کہا، وہ کم بخت اللہ کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں جس طرح کسی آدمی کو (خرید و فروخت میں) دھوکہ دیتے ہیں اگر وہ صاف صاف کھول کر کہہ دیں کہ ہم اتنا نفع لیں گے تو یہ ہمارے نزدیک آسان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: Q6964]
حدیث نمبر: 6964
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کچھ خریدا کرو تو کہہ دیا کرو کہ اس میں کوئی دھوکہ نہ ہونا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6964]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اسے خرید و فروخت میں دھوکا دیا جاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو: اس میں کوئی دھوکا نہیں ہونا چاہیے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة