🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

327. مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
جس شخص کے ہاتھ پر کسی آدمی نے اسلام قبول کیااس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
472 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أبنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:“جس شخص کے ہاتھ پر کسی آدمی نے اسلام قبول کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، عبد السلام بن محمد الاموی سخت ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا: ”کل میں ایسے شخص کے ہاتھ میں اسلامی جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اسلامی فتح حاصل ہوگی جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت رکھتے ہیں۔“ رات بھر صحابہ رضی اللہ عنہ کے ذہن میں یہی خیال رہا کہ دیکھئے کے جھنڈ ا ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو ہر شخص امیدوار تھا لیکن آپ نے فرمایا: ”علی کہاں ہے “؟ عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہے، آپ نے اپنا مارک تھوک ان کی آنکھوں میں لگایا اس سے انہیں صحت مل گئی اور کسی بھی قسم کی تکلیف باقی نہ رہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دیا تو انہوں نے عرض کیا کہ کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک نہ لڑوں جب تک یہ ہمارے ہی جیسے یعنی مسلمان نہ ہو جائیں؟ آپ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ یوں ہی چلے جاؤ جب ان کی سرحد میں اتر و تو انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ کون کون سے کام ضروری ہیں، اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے اللہ ایک شخص کو بھی مسلمان کر دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [بخاري: 3009]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں