🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

334. مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلَمْ يَجِدْ جَزَاءً إِلَّا الثَّنَاءَ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ
جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی اور اس نے (اپنے محسن کی) مدح وثنا کے علاوہ کوئی بدلہ نہ دیا تو بلاشبہ اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اس (محسن کے احسان) کوچھپایا تو بلاشبہ اس نے ناشکری کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 485
485 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ نُفَيْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا الثَّنَاءَ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی اور اس نے (اپنے محسن کی) مدح و ثنا کے علاوہ کوئی بدلہ نہ دیا تو بلاشبہ اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اس (محسن کے احسان) کو چھپایا تو بلاشبہ اس نے ناشکری کی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3415، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4813، 4814، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2034، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12155» شرحبيل بن سعد جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 486
486 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ أنا الْقَاسِمُ بْنُ لَيْثِ بْنِ مَسْرُورٍ أَبُو صَالِحٍ الرَّاسِبِيُّ، نا مُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُولِيَ خَيْرًا فَلْيَجْزِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى ذَلِكَ فَلْيُثْنِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَهُ»
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی تو اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اور جو اس (بدلہ دینے) پر قادر نہ ہو تو اسے چاہیے کہ اس (اپنے محسن) کی مدح و ثنا کرے اور جو ایسا نہ کرے تو بلاشبہ اس نے ناشکری کی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه شعب الايمان: 8689»
وضاحت: سلامی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بندہ اپنے محسن کو ہمیشہ یاد رکھے اور اس کے احسان کا بدلہ دینے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ اگر بدلے میں کچھ دینے کے لیے نہ نکلے تو کم از کم اپنے محسن کے لیے زبان سے اچھے کلمات ہی ادا کر دے۔ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کرے، اس کی پیٹھ پیچھے اس کی تعریف کرے، اور اگر مناسب سمجھے تو لوگوں کے سامنے اس کا احسان بھی بیان کر دے۔ اب جو شخص اتنا بھی نہ کر سکے تو اس نے کسی کے احسان کا کیا بدلہ دیتا ہے؟ ایسے شخص کو نا شکرا اور احسان فراموش نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں